حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبِيٍّ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ الْهَمْدَانِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْمُسْتَوْرِدُ بْنُ شَدَّادٍ، قَالَ: إِنِّي لَفِي الرَّكْبِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، إِذْ أَتَى عَلَى سَخْلَةٍ مَنْبُوذَةٍ، قَالَ: فَقَالَ: أَتُرَوْنَ هَذِهِ هَانَتْ عَلَى أَهْلِهَا؟، قَالَ: قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، مِنْ هَوَانِهَا أَلْقَوْهَا أَوْ كَمَا قَالَ، قَالَ: فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَلدُّنْيَا أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا.
مستورد بن شداد (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک قافلے میں تھا کہ آپ بکری کے ایک پڑے ہوئے مردہ بچے کے پاس آئے، اور فرمایا : کیا تم جانتے ہو کہ یہ اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بےوقعت ہے ؟ عرض کیا گیا : اللہ کے رسول ! اس کی بےوقعتی ہی کی وجہ سے اس کو یہاں ڈالا گیا ہے، یا اسی طرح کی کوئی بات کہی گئی، آپ ﷺ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، دنیا اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بھی زیادہ ذلیل و حقیر ہے جتنی یہ بکری اپنے مالک کے نزدیک حقیر و بےوقعت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الزہد ١٣ (٢٣٢١) ، (تحفة الأشراف : ١١٢٥٨) ، وقد أخرجہ : (حم ٤/٢٢٩، ٢٣٠) (صحیح )