حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ بُرْزِينَ . ح وحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْجُمَحِيُّ، حَدَّثَنَا غَسَّانُ بْنُ بُرْزِينَ، حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ، عَنْ الْبَرَاءِ السَّلِيطِيِّ، عَنْ نُقَادَةَ الْأَسَدِيِّ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) إِلَى رَجُلٍ يَسْتَمْنِحُهُ نَاقَةً، فَرَدَّهُ، ثُمَّ بَعَثَنِي إِلَى رَجُلٍ آخَرَ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ، فَلَمَّا أَبْصَرَهَا رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهَا وَفِيمَنْ بَعَثَ بِهَا، قَالَ نُقَادَةُ: فَقُلْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ): وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا؟ قَالَ: وَفِيمَنْ جَاءَ بِهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا فَحُلِبَتْ فَدَرَّتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): اللَّهُمَّ أَكْثِرْ مَالَ فُلَانٍ، لِلْمَانِعِ الْأَوَّلِ،وَاجْعَلْ رِزْقَ فُلَانٍ يَوْمًا بِيَوْمٍلِلَّذِي بَعَثَ بِالنَّاقَةِ.
نقادہ اسدی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے ایک شخص کے پاس اونٹنی مانگنے کے لیے بھیجا، لیکن اس نے انکار کردیا، آپ ﷺ نے مجھے ایک دوسرے شخص کے پاس بھیجا تو اس نے ایک اونٹنی بھیج دی، جب رسول اللہ ﷺ نے اس کو دیکھا تو فرمایا : اللہ تعالیٰ اس میں برکت دے اور جس نے اس کو بھیجا ہے اس میں بھی برکت عطا کرے ۔ نقادہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا : یہ بھی دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ اس کو بھی برکت دے جو اسے لے آیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : ہاں جو اسے لایا ہے اس کو بھی برکت دے ، پھر آپ ﷺ نے حکم دیا تو اس کا دودھ دوہا گیا، اس نے بہت دودھ دیا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے اللہ ! (پہلے اونٹنی نہ دینے والا شخص) کا مال زیادہ کر دے، اور جس نے اونٹنی بھیجی ہے اس کو رزق یومیہ دے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١١٧٠٩، ومصباح الزجاجة : ١٤٦٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٧٧) (ضعیف) (سند میں براء سلیطی مجہول ہیں )