حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ رَافِعٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مُسْلِمٍ الْأَعْوَرِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): يَعُودُ الْمَرِيضَ، وَيُشَيِّعُ الْجِنَازَةَ، وَيُجِيبُ دَعْوَةَ الْمَمْلُوكِ، وَيَرْكَبُ الْحِمَارَ، وَكَانَ يَوْمَ قُرَيْظَةَ، وَالنَّضِيرِ عَلَى حِمَارٍ، وَيَوْمَ خَيْبَرَ عَلَى حِمَارٍ مَخْطُومٍ بِرَسَنٍ مِنْ لِيفٍ، وَتَحْتَهُ إِكَافٌ مِنْ لِيفٍ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مریض کی عیادت کرتے، جنازے کے پیچھے جاتے، غلام کی دعوت قبول کرلیتے، گدھے کی سواری کرتے، جس دن بنو قریظہ اور بنو نضیر کا واقعہ ہوا، آپ گدھے پر سوار تھے، خیبر کے دن بھی ایک ایسے گدھے پر سوار تھے جس کی رسی کھجور کی چھال کی تھی، اور آپ کے نیچے کھجور کی چھال کا زین تھا۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجنائز ٣٢ (١٠١٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٨) (ضعیف) (سند میں مسلم الاعور ضعیف ہیں )