hadith book logo

Ibn Majah: Hadith 4201

.

سنن ابن ماجه

4201
Ibn Majah
صحیح
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ،‏‏‏‏ وَإِسْمَاعِيل بْنُ مُوسَى،‏‏‏‏ قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ،‏‏‏‏ عَنْ الْأَعْمَشِ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي صَالِحٍ،‏‏‏‏ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ،‏‏‏‏ قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ):‏‏‏‏ قَارِبُوا وَسَدِّدُوا،‏‏‏‏ فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ مِنْكُمْ بِمُنْجِيهِ عَمَلُهُ،‏‏‏‏ قَالُوا:‏‏‏‏ وَلَا أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:‏‏‏‏ وَلَا أَنَا،‏‏‏‏ إِلَّا أَنْ يَتَغَمَّدَنِي اللَّهُ بِرَحْمَةٍ مِنْهُ وَفَضْلٍ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میانہ روی اختیار کرو، اور سیدھے راستے پر رہو، کیونکہ تم میں سے کسی کو بھی اس کا عمل نجات دلانے والا نہیں ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے سوال کیا : اللہ کے رسول ! آپ کو بھی نہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اور مجھے بھی نہیں ! مگر یہ کہ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت وفضل سے مجھے ڈھانپ لے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٣٩٣، ومصباح الزجاجة : ١٤٩٦) (صحیح) (سند میں شریک بن عبداللہ القاضی متفق علیہ ضعیف راوی ہیں، لیکن شواہد سے یہ صحیح ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٢٦٠٢ ) وضاحت : ١ ؎: قاربوا اور سددوا دونوں کے معنی قریب ہی کے ہیں، یعنی عبادت میں اعتدال کرو اور میانہ روی پر مضبوطی سے رہو، جہاں تک خوشی سے ہو سکے عبادت کرو، جب دل اکتا جائے تو عبادت بند کر دو ، بعضوں نے کہا : قاربوا کا یہ معنی ہے کہ عبادت سے اللہ تعالیٰ کی قربت چاہو، بعضوں نے کہا : کثرت عبادت سے قرب حاصل کرو لیکن صحیح وہی ترجمہ ہے جو اوپر لکھا گیا اور وہی مناسب ہے اس عبادت کے، کسی کو اس کے اعمال نجات نہیں دیں گے، اس حدیث سے فخر اور تکبر کی جڑ کٹ گئی، اگر کوئی عابد اور زہد ہو تو بھی اپنی عبادت پر گھمنڈ نہ کرے، اور گناہگاروں کو ذلیل نہ سمجھے اس لئے کہ نجات فضل اور رحمت الہی پر موقوف ہے، لیکن اس میں شک نہیں کہ اعمال صالحہ اللہ کے فضل و احسان اور اس کی رحمت و رأفت کا قرینہ ہیں، اور ان سے نجات کی امید قوی ہوئی ہے باقی اختیار مالک کو ہے اللہم اغفرلنا وارحمنا۔