حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ، سَمِعْتُ أَبِي، حَدَّثَنَا أَبُو عُثْمَانَ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ (ﷺ)، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَصَابَ مِنَ امْرَأَةٍ قُبْلَةً، فَجَعَلَ يَسْأَلُ عَنْ كَفَّارَتِهَا، فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَأَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ذَلِكَ ذِكْرَى لِلذَّاكِرِينَ سورة هود آية 114، فَقَالَ الرَّجُلُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلِي هَذِهِ، فَقَالَ: هِيَ لِمَنْ عَمِلَ بِهَا مِنْ أُمَّتِي.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے نبی اکرم ﷺ کے پاس آ کر بتایا کہ اس نے ایک عورت کا بوسہ لیا ہے، وہ اس کا کفارہ پوچھنے لگا، آپ ﷺ نے اس سے کچھ نہیں کہا تو اس پر اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی : وأقم الصلاة طرفي النهار وزلفا من الليل إن الحسنات يذهبن السيئات ذلک ذكرى للذاکرين نماز قائم کرو دن کے دونوں حصوں (صبح و شام) میں اور رات کے ایک حصے میں، بیشک نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں، یہ ذکر کرنے والوں کے لیے ایک نصیحت ہے (سورۃ ہود : ١١٤ ) ، اس شخص نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا یہ (خاص) میرے لیے ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ میری امت میں سے ہر اس شخص کے لیے ہے جو اس پر عمل کرے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المواقیت ٤ (٥٢٦) ، تفسیر القرآن ٦ (٤٦٨٧) ، صحیح مسلم/التوبة ٧ (٢٧٦٣) ، سنن الترمذی/تفسیر القرآن ١٢ (٣١١٤) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٥، ٤٣٠) (صحیح )