حَدَّثَنَا الزُّبَيْرُ بْنُ بَكَّارٍ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ فَرْوَةَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ، فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، ثُمَّ قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَفْضَلُ؟ قَالَ: أَحْسَنُهُمْ خُلُقًا، قَالَ: فَأَيُّ الْمُؤْمِنِينَ أَكْيَسُ؟ قَالَ: أَكْثَرُهُمْ لِلْمَوْتِ ذِكْرًا، وَأَحْسَنُهُمْ لِمَا بَعْدَهُ اسْتِعْدَادًا، أُولَئِكَ الْأَكْيَاسُ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ تھا کہ آپ کے پاس ایک انصاری شخص آیا، اس نے آپ کو سلام کیا، پھر کہنے لگا : اللہ کے رسول ! مومنوں میں سے کون سب سے بہتر ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جو ان میں سب سے اچھے اخلاق والا ہے ، اس نے کہا : ان میں سب سے عقلمند کون ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جو ان میں موت کو سب سے زیادہ یاد کرے، اور موت کے بعد کی زندگی کے لیے سب سے اچھی تیاری کرے، وہی عقلمند ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٣٣٣، ومصباح الزجاجة : ١٥٢٤) (حسن) (سند میں فروہ بن قیس اور نافع بن عبد اللہ مجہول ہیں، لیکن حدیث دوسرے شواہد سے حسن ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١٣٨٤ )