حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، حَدَّثَنَا سَيَّارٌ، حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) دَخَلَ عَلَى شَابٍّ وَهُوَ فِي الْمَوْتِ، فَقَالَ: كَيْفَ تَجِدُكَ، قَالَ: أَرْجُو اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَأَخَافُ ذُنُوبِي، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَا يَجْتَمِعَانِ فِي قَلْبِ عَبْدٍ فِي مِثْلِ هَذَا الْمَوْطِنِ، إِلَّا أَعْطَاهُ اللَّهُ مَا يَرْجُو، وَآمَنَهُ مِمَّا يَخَافُ.
انس (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ ایک نوجوان کے پاس آئے جو مرض الموت میں تھا، آپ ﷺ نے اس سے پوچھا : تم اپنے آپ کو کیسا پاتے ہو ؟ اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اللہ کی رحمت کی امید کرتا ہوں، اور اپنے گناہوں سے ڈرتا ہوں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس بندے کے دل میں ایسے وقت میں یہ دونوں کیفیتیں جمع ہوجائیں، اللہ تعالیٰ اس کو وہ چیز دے گا جس کی وہ امید کرتا ہے، اور جس چیز سے ڈرتا ہے، اس سے محفوظ رکھے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجنائز ١١ (٩٨٣) ، (تحفة الأشراف : ٢٦٢) (حسن) (سند میں سیار بن حاتم ضعیف ہیں، لیکن شاہد کی بناء پر یہ حسن ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١٠٥١ )