حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ صَاحِبَيِ الصُّورِ بِأَيْدِيهِمَا أَوْ فِي أَيْدِيهِمَا قَرْنَانِ، يُلَاحِظَانِ النَّظَرَ مَتَى يُؤْمَرَانِ.
ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا : بیشک صور والے دونوں فرشتے اپنے ہاتھوں میں صور ١ ؎ لیے برابر دیکھتے رہتے ہیں کہ کب پھونکنے کا حکم ہو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٤١٩٣، ومصباح الزجاجة : ١٥٢٩) (منکر) (سند میں حجاج بن ارطاہ وعطیہ العوفی ضعیف ہیں، اور حجاج نے ثقات کی مخالفت کی ہے، اس لئے یہ لفظ منکر ہے، محفوظ حدیث صاحب القرن ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ١٠٧٩ ) وضاحت : ١ ؎: صور کی جمع اصوار یعنی نرسنگا، اور بگل۔