حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِي صَغِيرَةَ، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْالْقَاسِمِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ يُحْشَرُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ؟ قَالَ: حُفَاةً عُرَاةً، قُلْتُ: وَالنِّسَاءُ؟ قَالَ: وَالنِّسَاءُ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَمَا يُسْتَحْيَا، قَالَ: يَا عَائِشَةُ، الْأَمْرُ أَشَدُّ مِنْ أَنْ يَنْظُرَ بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے پوچھا : اللہ کے رسول ! لوگ قیامت کے دن کیسے اٹھائے جائیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ننگے پاؤں، ننگے بدن ، میں نے کہا : عورتیں بھی اسی طرح ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : عورتیں بھی ، میں نے کہا : اللہ کے رسول ! پھر شرم نہیں آئے گی ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : عائشہ ! معاملہ اتنا سخت ہوگا کہ (کوئی) ایک دوسرے کی طرف نہ دیکھے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الرقاق ٤٥ (٦٥٢٧) ، صحیح مسلم/الجنة ١٤ (٢٨٥٩) ، سنن النسائی/الجنائز ١١٨ (٢٠٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٦١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٥٣، ٩٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اپنی جان بچانے کی فکر ہوگی ایسے وقت میں بدنظری کیسی۔