حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَ: أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، وَعَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عَمِّهِ، قَالَ: شُكِيَ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) الرَّجُلُ يَجِدُ الشَّيْءَ فِي الصَّلَاةِ، فَقَالَ: لَا حَتَّى يَجِدَ رِيحًا، أَوْ يَسْمَعَ صَوْتًا.
عباد بن تمیم کے چچا عبداللہ بن زید بن عاصم انصاری (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس شخص کا معاملہ لے جایا گیا جس نے نماز میں (حدث کا) شبہ محسوس کیا، آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں، شک و شبہ سے وضو نہیں ٹوٹتا جب تک کہ وہ گوز کی آواز نہ سن لے، یا بو نہ محسوس کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٤ (١٣٧) ، ٣٤ (١٧٧) ، البیوع ٥ (٢٠٥٦) ، صحیح مسلم/الحیض ٢٦ (٣٦١) ، سنن ابی داود/الطہارة ٦٨ (١٧٦) ، سنن النسائی/الطہارة ١١٥ (١٦٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٢٩٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٣٩، ٤٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: بعض لوگ شبہات کا شکار ہوجاتے ہیں، اور اکثر شیطان ان کو نماز میں وہم دلاتا رہتا ہے، یہ حکم ان کے لئے ہے۔