حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْمُثَنَّى، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فِي سَفَرٍ، فَقَالَ: هَلْ مِنْ مَاءٍ؟ فَتَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ لَحِقَ بِالْجَيْشِ فَأَمَّهُمْ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا کہ آپ نے فرمایا : کچھ پانی ہے ؟ ، پھر آپ نے وضو کیا، اور موزوں پر مسح کیا، پھر لشکر میں شامل ہوئے اور ان کی امامت فرمائی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ما جہ، (تحفة الأشراف : ١٠٩٣، ومصباح الزجاجة : ٢٢٧) (ضعیف) (عمر بن المثنی الاشجعی الرقی مستور ہیں، اور عطاء خراسانی اور انس (رض) کے مابین انقطاع ہے، جس کی وجہ سے یہ سند ضعیف ہے )