حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بِنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، سَأَلَهُ رَجُلٌ كَمْ أُفِيضُ عَلَى رَأْسِي وَأَنَا جُنُبٌ؟ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)يَحْثُو عَلَى رَأْسِهِ ثَلَاثَ حَثَيَاتٍ، قَالَ الرَّجُلُ: إِنَّ شَعْرِي طَوِيلٌ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) أَكْثَرَ شَعْرًا مِنْكَ وَأَطْيَبَ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا : جب میں غسل جنابت کروں تو اپنے سر پر کتنا پانی ڈالوں ؟ کہا : رسول اللہ ﷺ اپنے سر پر تین پانی چلو ڈالتے تھے، اس پر اس شخص نے کہا : میرے بال لمبے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ رسول ﷺ تم سے زیادہ بال والے، اور زیادہ پاک و صاف رہنے والے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٣٠٦٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٥١) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث میں واضح طور پر یہ بات موجود ہے کہ نبی اکرم ﷺ کو سر پر ڈالنے کے لیے تین لپ پانی کافی ہوتا تھا، حقیقت یہ ہے کہ تین لپ میں سارا سر بخوبی تر ہوجاتا ہے، اور وہ غسل میں کافی ہے۔