حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي عُتْبَةُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، حَدَّثَنِي طَلْحَةُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَالَ: الصَّلَوَاتُ الْخَمْسُ، وَالْجُمُعَةُ إِلَى الْجُمُعَةِ، وَأَدَاءُ الْأَمَانَةِ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَا، قُلْتُ: وَمَا أَدَاءُ الْأَمَانَةِ؟ قَالَ: غُسْلُ الْجَنَابَةِ فَإِنَّ تَحْتَ كُلِّ شَعَرَةٍ جَنَابَةً.
ابوایوب انصاری (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : روزانہ پانچوں نمازیں، ایک جمعہ دوسرے جمعہ تک، اور امانت کی ادائیگی ان کے درمیان کے گناہوں کا کفارہ ہیں ، میں نے پوچھا : امانت کی ادائیگی سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : غسل جنابت، کیونکہ ہر بال کے نیچے جنابت ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٣٤٦١، ومصباح الزجاجة : ٢٣٣) (ضعیف) (طلحہ بن نافع کا سماع ابو ایوب (رض) سے ثابت نہیں ہے، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة، للالبانی : ٣٨٠١ ، و ضعیف ابی داود : ٣٧ ) وضاحت : ١ ؎: (فواد عبدالباقی کے نسخہ میں بينها ہے )