حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ الْحَكَمِ، عَنْ ذَكْوَانَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، أَنَّ ّرَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) مَرَّ عَلَى رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ، فَأَرْسَلَ إِلَيْهِ فَخَرَجَ رَأْسُهُ يَقْطُرُ، فَقَالَ: لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ، قَالَ: نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: إِذَا أُعْجِلْتَ، أَوْ أُقْحِطْتَ فَلَا غُسْلَ عَلَيْكَ، وَعَلَيْكَ الْوُضُوءُ.
ابو سعید خدری (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا گزر قبیلہ انصار کے ایک شخص کے پاس ہوا، آپ نے اسے بلوایا، وہ آیا تو اس کے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا : شاید ہم نے تم کو جلد بازی میں ڈال دیا ، اس نے کہا : جی ہاں، اللہ کے رسول ! آپ ﷺ نے فرمایا : جب تم جلد بازی میں ڈال دئیے جاؤ، یا جماع انزال ہونے سے قبل موقوف کرنا پڑے تو تم پر غسل واجب نہیں بلکہ وضو کافی ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوضوء ٣٤ (١٨٠) ، صحیح مسلم/الحیض ٢١ (٣٤٥) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٩٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢١، ٢٦، ٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: آگے آنے والی احادیث سے یہ حدیث منسوخ ہے۔