حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ، عَنِ الْعُمَرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنِ الْقَاسِمِ، عَنْ عَائِشَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) قَالَ: إِذَا اسْتَيْقَظَ أَحَدُكُمْ مِنْ نَوْمِهِ فَرَأَى بَلَلًا، وَلَمْ يَرَ أَنَّهُ احْتَلَمَ اغْتَسَلَ، وَإِذَا رَأَى أَنَّهُ قَدِ احْتَلَمَ، وَلَمْ يَرَ بَلَلًا فَلَا غُسْلَ عَلَيْهِ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جب کوئی شخص نیند سے بیدار ہو، اور تری دیکھے، لیکن احتلام یاد نہ ہو تو غسل کرلے، اور اگر احتلام یاد ہو لیکن تری نہ دیکھے تو اس پر غسل نہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطہارة ٩٥ (٢٣٦) ، سنن الترمذی/الطہارة ٨٢ (١١٣) ، (تحفة الأشراف : ١٧٥٣٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٥٦) ، سنن الدارمی/الطہارة ٧٧ (٧٩٢) (حسن) (تراجع الألبانی : رقم : ٥١٦ ) وضاحت : ١ ؎: لیکن تری سے مراد منی ہے، اگر تری محسوس نہ ہو تو اکثر اہل علم کے نزدیک غسل واجب نہ ہوگا، اگر گرمی یا دیری کے سبب منی خشک ہوجائے، تو غسل ضروری ہوگا۔