حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ)يُدْنِي رَأْسَهُ إِلَيَّ وَأَنَا حَائِضٌ، وَهُوَ مُجَاوِرٌ تَعْنِي: مُعْتَكِفًا، فَأَغْسِلُهُ، وَأُرَجِّلُهُ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں حیض کی حالت میں ہوتی اور نبی اکرم ﷺ مسجد میں معتکف ہوتے، تو آپ اپنا سر مبارک میری طرف بڑھا دیتے، میں آپ کا سر دھو کر کنگھا کردیتی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٧٢٨٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحیض ٦ (٣٠١) ، الاعتکاف ٤ (٢٠٢١) ، اللباس ٧٦ (٥٩٢٥) ، صحیح مسلم/الحیض ٣ (٢٩٧) سنن النسائی/الطہارة ١٧٦ (٢٧٨) ، الحیض ٢١ (٣٨٧) ، موطا امام مالک/الطہارة ٢٨ (١٠٢) ، مسند احمد (٦/٣٢، ٥٥، ٨٦، ١٧٠، ٢٠٤) ، سنن الدارمی/الطہارة ١٠٨ (١٠٩٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حجرہ کا دروازہ مسجد ہی میں تھا تو رسول اللہ ﷺ حجرے کے اندر اپنا سر مبارک کردیتے، ام المؤمنین عائشہ (رض) کنگھی کر دیتیں، بال دھو دیتیں، آپ ہمیشہ بال رکھتے تھے، آپ نے صرف حج میں بال منڈائے ہیں۔