حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فِي لِحَافِهِ، فَوَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ، فَانْسَلَلْتُ مِنَ اللِّحَافِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): أَنَفِسْتِ؟ قُلْتُ: وَجَدْتُ مَا تَجِدُ النِّسَاءُ مِنَ الْحَيْضَةِ، قَالَ: ذَلِكِ مَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى بَنَاتِ آدَمَ، قَالَتْ: فَانْسَلَلْتُ فَأَصْلَحْتُ مِنْ شَأْنِي، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): تَعَالَيْ فَادْخُلِي مَعِي فِي اللِّحَافِ، قَالَتْ: فَدَخَلْتُ مَعَهُ.
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آپ کے لحاف میں تھی، تو مجھے حیض کا احساس ہوا جو عورتیں محسوس کرتی ہیں، تو میں لحاف سے کھسک گئی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا تم کو حیض آگیا ہے ؟ میں نے کہا : مجھے وہی حیض محسوس ہوا جو عورتیں محسوس کیا کرتی ہیں، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : یہ چیز تو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر لکھ دی ہے ، تو میں لحاف سے کھسک کر نکل گئی اور اپنی حالت ٹھیک کر کے واپس آگئی، تو رسول ﷺ نے فرمایا : آؤ میرے ساتھ لحاف میں داخل ہو جاؤ تو میں آپ کے ساتھ لحاف میں داخل ہوگئی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٤١، ومصباح الزجاجة : ٢٣٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الحیض ٥ (٢٩٨) ، ٢١ (٣٢٢٥) ، ٢٢ (٣٢٣) ، صحیح مسلم/الحیض ٢ (٢٩٦) ، سنن النسائی/الطہارة ١٧٩ (٢٨٤) الحیض ١٠ (٣١٧) ، مسند احمد (٦/ ٢٩٤، ٣٠٠) ، سنن الدارمی/الطہارة ١٠٧ (١٠٨٤) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: مساس، معانقہ، بوسہ وغیرہ سب درست ہے، ابوداؤد نے معاذ بن جبل (رض) سے روایت کی ہے کہ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ مجھے اپنی عورت سے جب وہ حائضہ ہو کیا کرنا درست ہے، تو آپ ﷺ نے فرمایا : تہبند کے اوپر فائدہ اٹھانا، اور اس سے بھی بچنا افضل ہے ۔