حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ شُرَيْحِ بْنِ هَانِئٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْعَائِشَةَ، قَالَتْ: كُنْتُ أَتَعَرَّقُ الْعَظْمَ وَأَنَا حَائِضٌ، فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي، وَأَشْرَبُ مِنَ الْإِنَاءِ، فَيَأْخُذُهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَيَضَعُ فَمَهُ حَيْثُ كَانَ فَمِي وَأَنَا حَائِضٌ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں حالت حیض میں ہڈی چوستی تھی، پھر رسول اللہ ﷺ اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، اور میں برتن سے پانی پیتی تھی، آپ ﷺ اسے لیتے اور اپنا منہ وہیں رکھتے جہاں میں نے رکھا تھا، حالانکہ میں حیض کی حالت میں ہوتی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الحیض ٣ (٣٠٠) ، سنن ابی داود/الطہارة ١٠٣ (٢٥٩) ، سنن النسائی/الطہارة ٥٦ (٧٠) ، ١٧٧ (٢٨٠) ، ١٧٨ (٢٨١) ، المیاہ ٩ (٣٤٢) ، الحیض ١٤ (٣٧٧) ، ١٥ (٣٨٠) ، (تحفة الأشراف : ١٦١٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٦٢، ٦٤، ١٢٧، ١٩٢، ٢١٠، ٢١٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ حائضہ کا بدن، منہ اور لعاب ناپاک نہیں ہے، اس لئے کہ حیض کی نجاست حکمی ہے۔