حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ عَلِيٍّ، عَنْأَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، قَالَ: انْكَسَرَتْ إِحْدَى زَنْدَيَّ، فَسَأَلْتُ النَّبِيِّ (ﷺ)؟فَأَمَرَنِي أَنْ أَمْسَحَ عَلَى الْجَبَائِرِ. قَالَ أَبُو الْحَسَنِ بْنُ سَلَمَةَ: أَنْبَأَنَا الدَّبَرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ، نَحْوَهُ.
علی بن ابی طالب (رض) کہتے ہیں کہ میری ایک کلائی ٹوٹ گئی، میں نے نبی اکرم ﷺ سے پوچھا ؟ ، تو آپ نے مجھے پٹیوں پر مسح کرنے کا حکم دیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٠٧٧، ومصباح الزجاجة : ٢٤٧) (ضعیف جدا) (سند میں عمرو بن خالد کذاب ہے ) اس سند سے بھی اسی جیسی حدیث مروی ہے۔