حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا نَهِيكُ بْنُ يَرِيمَ الْأَوْزَاعِيُّ، حَدَّثَنَا مُغِيثُ بْنُ سُمَيٍّ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ الصُّبْحَ بِغَلَسٍ، فَلَمَّا سَلَّمَ أَقْبَلْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، فَقُلْتُ: مَا هَذِهِ الصَّلَاةُ؟ قَالَ: هَذِهِ صَلَاتُنَا كَانَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ فَلَمَّا طُعِنَ عُمَرُ أَسْفَرَ بِهَا عُثْمَانُ.
مغیث بن سمی کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن زبیر (رض) کے ساتھ صبح کی نماز غلس (آخر رات کی تاریکی) میں پڑھی، جب انہوں نے سلام پھیرا تو میں عبداللہ بن عمر (رض) کی طرف متوجہ ہوا، اور ان سے کہا : یہ کیسی نماز ہے ؟ انہوں نے کہا : یہ وہ نماز ہے جو ہم رسول اللہ ﷺ ، اور ابوبکرو عمر (رض) کے ساتھ پڑھتے تھے، لیکن جب عمر (رض) کو نیزہ مار کر زخمی کردیا گیا تو عثمان (رض) نے اسے اسفار (اجالے) میں پڑھنا شروع کردیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٤٦١، ومصباح الزجاجة : ٢٥٣) (صحیح) (نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : ١ / ٢٧٩ ) وضاحت : ١ ؎: عثمان (رض) کو اسفار (اجالے) میں فجر پڑھتے دیکھ کر بعض تابعین کو یہ گمان پیدا ہوگیا کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا طریقہ یہی تھا کہ وہ اسفار میں فجر کی نماز پڑھا کرتے جیسے ابراہیم نخعی سے منقول ہے حالانکہ اسفار میں پڑھنے کا باعث جان کا ڈر تھا ورنہ اصلی وقت اس نماز کا وہی تھا جو ابن عمر (رض) نے بیان کیا کہ منہ اندھیرے نبی اکرم ﷺ اور شیخین (ابوبکر صدیق و عمر فاروق رضی اللہ عنہما) ایسا ہی کرتے رہے۔