حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ، قَالَ: سُئِلَ أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ، هَلِ اتَّخَذَ النَّبِيُّ (ﷺ) خَاتَمًا؟ قَالَ: نَعَمْ، أَخَّرَ لَيْلَةً صَلَاةَ الْعِشَاءِ الآخِرَةَ إِلَى قَرِيبٍ مِنْ شَطْرِ اللَّيْلِ، فَلَمَّا صَلَّى أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلَّوْا وَنَامُوا، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلَاةَ، قَالَ أَنَسٌ: كَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ. قَالَ الْقَطَّانُ: حَدَّثَنَا أَبُو حَاتِمٍ، حَدَّثَنَا الْأَنْصَارِيُّ، حَدَّثَنَا حمید، نَحْوَهُ.
حمید کہتے ہیں کہ انس بن مالک (رض) سے پوچھا گیا : کیا نبی اکرم ﷺ نے انگوٹھی بنوائی تھی ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں، ایک رات آپ نے عشاء کی نماز آدھی رات کے قریب مؤخر کی، جب آپ نماز سے فارغ ہوئے تو ہماری جانب متوجہ ہو کر فرمایا : اور لوگ نماز پڑھ کر سو گئے، اور تم لوگ برابر نماز ہی میں رہے جب تک نماز کا انتظار کرتے رہے ، انس (رض) کہتے ہیں : گویا میں آپ کی انگوٹھی کی چمک دیکھ رہا ہوں۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الموا قیت ٢٠ (٥٤٠) ، (تحفة الأشراف : ٦٣٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الموا قیت ٢٥ (٥٧٢) ، اللباس ٤٨ (٥٨٦٩) ، صحیح مسلم/المساجد ٣٩ (٦٤٠) ، حم ٣/١٨٢، ١٨٩، ٢٠٠، ٢٦٧) (صحیح ) اس سند سے بھی اوپر والی حدیث کے مثل مروی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : (یہ سند مشہور حسن سلمان کے نسخہ میں موجود نہیں ہے، بلکہ یہ علی بن حسن عبدالحمید کے نسخہ میں صفحہ نمبر ٣٣٣ پر موجود ہے )