حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: كَانَ بِلَالٌ لَا يُؤَخِّرُ الْأَذَانَ عَنِ الْوَقْتِ، وَرُبَّمَا أَخَّرَ الْإِقَامَةَ شَيْئًا.
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ بلال (رض) اذان وقت سے مؤخر نہ کرتے، اور اقامت کبھی کبھی کچھ مؤخر کردیتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٢١٧٨، ومصباح الزجاجة :) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/المساجد ٢٩ (٦٠٦) ، سنن ابی داود/الصلاة ٤٤ (٥٣٧) ، سنن الترمذی/الصلاة ٣٤ (٢٠٢) (حسن) (سند میں شریک القاضی سیء الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو : الإرواء : ٢٢٧ ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اقامت اس وقت تک نہ ہوتی جب تک نبی اکرم ﷺ حجرہ مبارکہ سے باہر نہ آجاتے، اور آپ کو دیکھ کر بلال (رض) اقامت شروع کرتے۔