حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا الِإفْرِيقِيُّ، عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فِي سَفَرٍ، فَأَمَرَنِي فَأَذَّنْتُ، فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ، وَمَنْ أَذَّنَ فَهُوَ يُقِيمُ.
زیاد بن حارث صدائی (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ایک سفر میں تھا، آپ نے مجھے اذان کا حکم دیا، میں نے اذان دی، (پھر جب نماز کا وقت ہوا) تو بلال (رض) نے اقامت کہنی چاہی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : صداء کے بھائی (زیاد بن حارث صدائی) نے اذان دی ہے اور جو شخص اذان دے وہی اقامت کہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الصلاة ٣٠ (٥١٤) ، سنن الترمذی/الصلاة ٣٢ (١٩٩) ، (تحفة الأشراف : ٣٦٥٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/١٦٩) (ضعیف) (اس کی سند میں عبد الرحمن بن زیاد بن انعم الافریقی ضعیف ہیں، نیز ملاحظہ ہو : الإرواء : ٠ ٣٣٧ )