حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ عَبَّادُ بْنُ الْوَلِيدِ، حَدَّثَنِي مُعَمَّرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ مَوْلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، حَدَّثَنِي أَبِي مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، قَالَ: رَأَيْتُ بِلَالًا يُؤَذِّنُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) مَثْنَى مَثْنَى، وَيُقِيمُ وَاحِدَةً.
ابورافع کہتے ہیں کہ میں نے بلال (رض) کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے اذان دیتے دیکھا، وہ اذان کے کلمات دو دو بار کہہ رہے تھے، اور اقامت کے کلمات ایک ایک بار ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٢٠٢٤، ومصباح الزجاجة : ٢٧٢) (صحیح) (سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ حدیث صحیح ہے، ورنہ اس کی سند میں معمر بن محمد ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎: ان احادیث سے طحاوی اور ابن جوزی کی یہ روایت باطل ہوگئی کہ بلال (رض) اقامت کے کلمات دو دو بار کہتے رہے یہاں تک کہ فوت ہوگئے، یعنی ایک ایک بار اقامت کے کلمات انہوں نے کہے، کیونکہ یہ شہادت ہے نفی پر اور یہ جائز ہے کہ بلال (رض) نے کبھی اقامت کے کلمات ایک ایک بار بھی کہے ہوں، اور کبھی دو دو بار اور اس راوی نے ایک ایک بار کہنا نہ سنا ہو، اور اس صورت میں دونوں طرح کی روایتوں میں توفیق و تطبیق ہوجائے گی۔