حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ أَبُو مَرْوَانَ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وأبي سعيد الخدري: أَنَّهُمَا أَخْبَرَاهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) رَأَى نُخَامَةً فِي جِدَارِ الْمَسْجِدِ، فَتَنَاوَلَ حَصَاةً فَحَكَّهَا، ثُمَّ قَالَ: إِذَا تَنَخَّمَ أَحَدُكُمْ، فَلَا يَتَنَخَّمَنَّ قِبَلَ وَجْهِهِ، وَلَا عَنْ يَمِينِهِ، وَلْيَبْزُقْ عَنْ شِمَالِهِ، أَوْ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى.
ابوہریرہ اور ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسجد کی دیوار پر رینٹ دیکھی تو آپ ﷺ نے ایک کنکری لے کر اسے کھرچ ڈالا، پھر فرمایا : جب کوئی شخص تھوکنا چاہے تو اپنے سامنے اور اپنے دائیں ہرگز نہ تھوکے، بلکہ اپنے بائیں جانب یا بائیں پاؤں کے نیچے تھوکے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٣٤ (٤٠٨) ، ٣٥ (٤١٠) ، ٣٦ (٤١٣) ، صحیح مسلم/المساجد ١٣ (٥٤٧) ، سنن النسائی/المساجد ٣٢ (٧٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٣٩٩٧، ١٢٢٨١) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصلاة ٢٣ (٤٧٧) ، مسند احمد (٣/٦، ٢٤، ٥٨، ٨٨، ٩٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مسجد میں تھوک، بلغم، رینٹ وغیرہ سے طاقت بھر پرہیز لازم ہے، اگر شدید ضرورت ہو، اور مسجد کا فرش ریت یا مٹی کا ہو تو بائیں پیر کے نیچے تھوک کر اس کو دبا دے، لیکن آج کل مساجد کے فرش پختہ ہیں، ان پر کسی بھی صورت میں تھوکنا جائز نہیں، ضرورت کے وقت رومال وغیرہ میں تھوکے، مسجد کو گندہ ہونے سے بچائے۔