3924
Ibn Majahحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ، أَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ رُؤْيَا النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: رَأَيْتُ امْرَأَةً سَوْدَاءَ ثَائِرَةَ الرَّأْسِ خَرَجَتْ مِنْ الْمَدِينَةِ، حَتَّى قَامَتْ بِالْمَهْيَعَةِ وَهِيَ الْجُحْفَةُ، فَأَوَّلْتُهَا وَبَاءً بِالْمَدِينَةِ فَنُقِلَ إِلَى الْجُحْفَةِ.
عبداللہ بن عمر (رض) نبی اکرم ﷺ کے خواب کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا : میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک کالی عورت جس کے بال بکھرے ہوئے تھے، مدینہ سے نکلی یہاں تک کہ مقام مہیعہ آ کر رکی، اور وہ جحفہ ہے، پھر میں نے اس کی تعبیر مدینے کی وبا سے کی جسے جحفہ منتقل کردیا گیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/التعبیر ٤١ (٧٠٣٨) ، سنن الترمذی/الرؤیا (٢٢٩٠) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٢٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٧، ٨٩، ١٠٤، ١٠٧، ١١٧) ، سنن الدارمی/الرؤیا ١٣ (٢٢٠٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہی اہل شام کی میقات ہے۔