(۱۰۰۱۱) حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرِِ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ یَحْیَی ، عَنِ الْقَاسِمِ ؛ أَنَّ عُمَرَ مَرَّتْ بِہِ غَنَمُ مِنْ غَنَمِ الصَّدَقَۃِ ، فَرَأَی فِیہَا شَاۃً ذَاتَ ضَرْعٍ ، فَقَالَ : مَا ہَذِہِ ؟ قَالُوا : مِنْ غَنَمِ الصَّدَقَۃِ ، فَقَالَ : مَا أَعْطَی ہَذِہِ أَہْلُہَا وَہُمْ طَائِعُونَ ، لاَ تَفْتِنُوا النَّاسَ ، لاَ تَأْخُذُوا حَزَرَاتِ النَّاسِ ، نُکِبُوا عَنِ الطَّعَامِ.
(١٠٠١١) حضرت قاسم سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عمر زکوۃ میں وصول شدہ بکریوں کے پاس سے گذرے تو آپ نے ایک دودھ پیتا بکری کا بچہ دیکھا، فرمایا یہ کیا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا زکوۃ کی بکریاں ہیں، آپ نے ارشاد فرمایا : یہ نہیں دیا اس کے مالکوں نے اس حال میں کہ وہ خوش ہوں، لوگوں کو فتنہ میں مبتلا نہ کرو اور زکوۃ وصول کرتے وقت بہترین مال وصول نہ کیا کرو۔ اس کے کھانے سے دور رہو۔