(۱۰۰۲۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ : اُسْتُعْمِلْتُ عَلَی صَدَقَاتِ عَکٍّ ، فَلَقِیتُ أَشْیَاخًا مِمَّنْ صَدَّقَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَاخْتَلَفُوا عَلَیَّ ، فَمِنْہُمْ مَنْ قَالَ اجْعَلْہَا مِثْلَ صَدَقَۃِ الإِبِلِ ، وَمِنْہُمْ مَنْ قَالَ فِی ثَلاَثِینَ تَبِیعٌ ، وَمِنْہُمْ مَنْ قَالَ فِی أَرْبَعِینَ بَقَرَۃٍ بَقَرَۃٌ مُسِنَّۃٌ
(١٠٠٢٢) حضرت عکرمہ بن خالد فرماتے ہیں کہ مجھے زکوۃ کی وصول یابی کا فریضہ سونپا گیا، میں ان بزرگوں سے ملا جو حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں زکوۃ دیا کرتے تھے۔ ان حضرات نے اختلاف کیا، بعض نے فرمایا کہ اونٹوں کی زکوۃ کے مثل وصول کرو، اور بعض حضرات نے فرمایا کہ تیس گائے پر ایک تبیع وصول کرو اور بعض نے کہا چالیس گائے پر ایک مسنہ وصول کرو۔