(۱۰۰۳۵) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنِ ابْن أَبِی لَیْلَی ، عَنِ الْحَکَمِ ، قَالَ : بَعَثَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُعَاذًا ، فَأَمَرَہُ أَنْ یَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ کُلِّ ثَلاَثِینَ تَبِیعًا ، أَوْ تَبِیعَۃً ، وَمِنْ کُلِّ أَرْبَعِینَ مُسِنَّۃً ، فَسَأَلُوہُ عَنْ فَضْلِ مَا بَیْنَہُمَا ؟ فَأَبَی أَنْ یَأْخُذَ حَتَّی سَأَلَ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : لاَ تَأْخُذْ شَیْئًا. (احمد ۵/۲۴۰۔ مالک ۲۴)
(١٠٠٣٥) حضرت حکم فرماتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت معاذ کو یمن بھیجا تو ان کو حکم فرمایا کہ تیس گائے پر ایک تبیع یا تبیعہ لینا اور چالیس پر ایک مسنہ، لوگوں نے سوال کیا کہ تیس اور چالیس کے درمیان جو زیادتی ہو اس پر کیا ہے ؟ آپ اس پر کچھ وصول کرنے سے رکے رہے یہاں تک کہ آپ نے حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : اس زیادتی پر کچھ وصول نہ کرنا۔