(۱۰۰۵۷) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامٍ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کِتَابَ الصَّدَقَۃِ فَقَرَنَہُ بِسَیْفِہِ ، أَوَ قَالَ : بِوَصِیَّتِہِ وَلَمْ یُخْرِجْہُ إلَی عُمَّالِہِ حَتَّی قُبِضَ ، عمِلَ بِہِ أَبُو بَکْرٍ حَتَّی ہَلَکَ ، وَعَمِلَ بِہِ عُمَرُ : فِی صَدَقَۃِ الْغَنَمِ فِی کُلِّ أَرْبَعِینَ شَاۃً شَاۃٌ إلَی عِشْرِینَ وَمِئَۃٍ ، فَإِنْ زَادَتْ فَشَاتَانِ إلَی مِئَتَیْنِ ، فَإِنْ زَادَتْ فَثَلاَثٌ إلَی ثَلاَثِ مِئَۃٍ ، فَإِنْ زَادَتْ فَفِی کُلِّ مِئَۃِ شَاۃٍ شَاۃٌ ، لَیْسَ فِیہَا شَیْئٌ حَتَّی تَبْلُغَ الْمِئَۃَ ، وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ ، وَلاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُفْتَرِقٍ ، وَمَا کَانَ مِنْ خَلِیطَیْنِ ، فَإِنَّہُمَا یَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِیَّۃِ.
(١٠٠٥٧) حضرت ابن عمر ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور اقدس (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ کے احکامات لکھے اور ان کو اپنی تلوار کے ساتھ رکھ لیا اور اس کو زکوۃ وصول کرنے والوں کیلئے نہیں نکالا یہاں تک کہ آپ دار فانی سے دارالبقاء کی طرف کوچ کر گئے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد صدیق اکبر اس پر عمل پیرا رہے یہاں کہ وہ دار فانی سے ہجرت کر گئے، اور آپ کے بعد پھر حضرت عمر اس پر عمل پیرا رہے۔ اس میں بکریوں کی زکوۃ سے متعلق تحریر تھا کہ چالیس بکریوں پر ایک بکری زکوۃ ہے ایک سو بیس بکریوں تک، پھر اگر ایک سو بیس سے زائد ہوجائیں تو اس پر دو بکریاں ہیں دو سو تک۔ پھر اگر دو سو سے زائد ہوجائیں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں۔ پھر اگر اس پر ایک بکری زائد ہوجائے تو ہر سو بکریوں پہ ایک بکری ہے اور پھر کچھ نہیں ہے (درمیانی عدد پر) یہاں تک کہ پھر سو ہوجائیں۔ اور مجتمع کو الگ الگ نہیں کیا جائے گا اور الگ الگ کو مجتمع نہیں کیا جائے گا، اور اگر دو شریک ہوں تو وہ بعد میں آپس میں ایک دوسرے سے برابر رجوع کرلیں گے۔