(۱۰۰۶۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِیمِ بْنُ سُلَیْمَانَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سَالِمٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ عَلِیٍّ ، فِی صَدَقَۃِ الْغَنَمِ ، قَالَ: إذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِینَ فَفِیہَا شَاۃٌ إلَی عِشْرِینَ وَمِئَۃٍ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃً فَفِیہَا شَاتَانِ إلَی مِئَتَیْنِ ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃً فَفِیہَا ثَلاَثُ شِیَاہٍ إلَی ثَلاَثِ مِئَۃٍ ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَی ثَلاَثِ مِئَۃٍ وَکَثُرَتْ فَفِی کُلِّ مِئَۃِ شَاۃٍ شَاۃٌ ، وَقَالَ عَبْدُ اللہِ مِثْلَ قَوْلِ عَلِیٍّ حَتَّی تَبْلُغَ ثَلاَثَ مِئَۃٍ ، ثُمَّ قَالَ عَبْدُ اللہِ : فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَۃً عَلَی ثَلاَثِ مِئَۃٍ فَفِیہَا أَرْبَعٌ إلَی أَرْبَعِ مِئَۃٍ ، ثُمَّ عَلَی ہَذَا الْحِسَابِ.
قَالَ مُحَمَّدٌ : أَخْبَرَنَا عَامِرٌ ، عَنْ عَلِیٍّ ، وَعَبْدِ اللہِ ، قَالاَ : لاَ یُجْمَعُ بَیْنَ مُفْتَرِقٍ ، وَلاَ یُفَرَّقُ بَیْنَ مُجْتَمِعٍ.
(١٠٠٦٢) حضرت علی ارشاد فرماتے ہیں کہ چالیس سے لیکر ایک سو بیس بکریوں تک زکوۃ ایک بکری ہے اور جب ایک سو بیس سے زائد ہوجائیں تو دو سو تک دو بکریاں ہیں اور پھر دو سو سے زائد ہوجائیں تو تین سو تک تین بکریاں ہیں، پھر جب تین سو سے زائد ہوجائیں تو ہر سو پر ایک بکری ہے، حضرت عبداللہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ تین سو تک۔ پھر جب تین سو سے زائد ہوجائیں تو چار سو تک چار بکریاں ہیں۔ پھر اسی حساب سے زکوۃ آئے گی۔ راوی حدیث محمد فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عامر نے بتایا کہ حضرت علی اور حضرت عبداللہ دونوں حضرات فرماتے ہیں کہ متفرق کو جمع نہیں کیا جائے گا اور جمع کو متفرق نہیں کیا جائے گا۔