(۱۰۰۸۲) حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنْ سِمَاکٍ ، عَنِ ابْنِ شِہَابٍ ، أَو شِہَابِ بْنِ مَالِکٍ ، عَنْ سَعِیدٍ الأَعْرَجِ، قَالَ: خَرَجْت أُرِیدُ الْجِہَادَ ، فَلَقِیتُ عُمَرَ بِمَکَّۃَ ، فَقَالَ: بإِذْنِ صَاحِبِکَ خَرَجتَ؟ یَعْنِی یَعْلَی بْنَ أُمَیَّۃَ، قَالَ: قُلْتُ : لاَ ، قَالَ : فَارْجِعْ إلَی صَاحِبِکَ ، فَإِذَا أَوْقَفَ الرَّجُلُ عَلَیْکُمْ غَنَمَہُ ، فَاصْدَعُوہَا صَدْعَیْنِ ، ثُمَّ اخْتَارُوا مِنَ النِّصْفِ الآخَرَ.
(١٠٠٨٢) حضرت سعید اعرج فرماتے ہیں کہ میں جہاد کیلئے نکلا تو مکہ میں میری حضرت عمر سے ملاقات ہوگئی، حضرت عمر نے پوچھا کہ تم یعلی بن امیہ کی اجازت سے نکلے ہو ؟ میں نے عرض کی کہ نہیں۔ آپ نے ارشاد فرمایا کہ اپنے ساتھی کے پاس واپس جاؤ جب آدمی تمہارے پاس بکریوں کی زکوۃ وصول کرنے کیلئے ٹھہرے تو تم اس کو دو حصوں میں تقسیم کردو، پھر نصف آخر (ادنی حصہ) کو اختیار کریں۔