(۱۰۰۹۱) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامٍ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : کَتَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کِتَابَ الصَّدَقَۃِ فَقَرَنَہُ بِسَیْفِہِ ، أَوَ قَالَ : بِوَصِیَّتِہِ ثُمَّ لَمْ یُخْرِجْہُ إلَی عُمَّالِہِ حَتَّی قُبِضَ ، فَلَمَّا قُبِضَ عَمِلَ بِہِ أَبُو بَکْرٍ حَتَّی ہَلَکَ ، ثُمَّ عَمِلَ بِہِ عُمَرُ : لاَ یُؤْخَذُ فِی الصَّدَقَۃِ ہَرِمَۃٌ ، وَلاَ ذَاتُ عَوَارٍ.
(١٠٠٩١) حضرت ابن عمر سے مروی ہے کہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زکوۃ کے احکامات لکھوائے اور ان اپنی تلوار کے ساتھ رکھا یا وصیت کے ساتھ، پھر ان کو دوبارہ زکوۃ وصول کرنے والوں کیلئے نہیں نکالا یہاں تک کہ آپ دار فانی سے کوچ کر گئے، آپ کی وفات کے بعد حضرت صدیق اکبر اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ آپ بھی رخصت ہوگئے، پھر حضرت عمر اس پر عمل پیرا رہے۔ (اس میں لکھا تھا کہ) زکوۃ وصول کرنے والا بوڑھا اور عیب دار جانور وصول نہ کرے۔