(۱۰۱۴۶) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَوَّامٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ ؛ أَنَّ أَمِیرَ الطَّائِفِ کَتَبَ إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : إِنَّ أَہْلَ الْعَسَلِ مَنَعُونَا مَا کَانُوا یُعْطُونَ مَنْ کَانَ قَبْلَنَا ، قَالَ : فَکَتَبَ إلَیْہِ إِنْ أَعْطَوْک مَا کَانُوا یُعْطُونَ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَاحْمِ لَہُمْ ، وَإِلاَّ فَلاَ تَحْمِہَا لَہُمْ ، قَالَ : وَزَعَمَ عَمْرُو بْنُ شُعَیْبٍ أَنَّہُمْ کَانُوا یُعْطُونَ مِنْ کُلِّ عَشْرِ قِرَبٍ قِرْبَۃً. (ابوداؤد ۱۵۹۷)
(١٠١٤٦) حضرت عمرو بن شعیب سے مروی ہے کہ حضرت عمر بن خطاب کو امیر طائف نے خط لکھا کہ شہد والوں نے ہم سے روک لیا ہے جو وہ ہم سے پہلے والوں کو دیا کرتے تھے، حضرت عمر نے ان کو لکھا کہ اگر تو وہ اتنا ہی ادا کریں جتنا رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ادا کرتے تھے تو ان سے وصول کرلو وگرنہ نہ وصول کرو، راوی فرماتے ہیں کہ حضرت عمروبن شعیب کا گمان یہ تھا کہ وہ ہر دس مشکیزوں پہ ایک مشکیزہ دیا کرتے تھے۔