(۱۰۱۴۸) حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِیسَی ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ مُنِیرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی ذُبَابٍ ؛ أَنَّہُ قَدِمَ عَلَی قَوْمِہِ فَقَالَ لَہُم : فِی الْعَسَلِ زَکَاۃٌ ، فَإِنَّہُ لاَ خَیْرَ فِی مَالٍ لاَ یُزَکَّی ، قَالَ : قَالُوا : فَکَمْ تَرَی ؟ قُلْتُ : الْعُشْرُ ، قَالَ : فَأَخَذَ مِنْہُمَ الْعُشْرَ ، فَقَدِمَ بِہِ عَلَی عُمَرَ وَأَخْبَرَہُ بِمَا فِیہِ ، قَالَ : فَأَخَذَہُ عُمَرُ وَجَعَلَہُ فِی صَدَقَاتِ الْمُسْلِمِینَ.
(١٠١٤٨) حضرت سعد بن ابو ذباب اپنی قوم کے پاس تشریف لائے اور ان سے فرمایا : شہد میں زکوۃ ہے اور اس مال میں کوئی خیر نہیں جس کی زکوۃ نہ ادا کی گئی ہو۔ راوی کہتے ہیں کہ قوم والوں نے عرض کیا کہ کتنا ہے ؟ آپ نے فرمایا عشر۔ پھر آپ نے ان سے عشر وصول فرمایا اور وہ لے کر حضرت عمر کی خدمت میں پہنچے اور ان کو اس کے بارے میں بتایا، حضرت عمر نے وہ وصول شدہ عشر ان سے لے کر مسلمانوں کے زکوۃ (میں جمع شدہ میں) رکھ لیا۔