(۱۰۱۸۸) حَدَّثَنَا شَبَابَۃُ بْنُ سَوَّارٍ ، عَنْ لَیْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ؛ أَنَّ عَبْدَ اللہِ کَانَ یُفْتِی فِی صَدَقَۃِ الزَّرْعِ وَالثِّمَارِ، مَا کَانَ فِیہِمَا یَشْرَبُ بِالنَّہَرِ ، أَوْ بِالْعیون ، أَوْ عَثَرِیًّا ، أَوْ بَعْلٍ ، فَإِنَّ صَدَقَتَہُ الْعُشُورُ ، مِنْ کُلِّ عَشْرَۃٍ وَاحِدٌ، وَمَا کَانَ مِنْہَا یُسْقَی بِالأَنْضَاحِ ، فَإِنَّ صَدَقَتَہُ نِصْفُ الْعُشُورِ ، وَفِی کُلِّ عِشْرِینَ وَاحِدٌ.
(١٠١٨٨) حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ پھلوں اور کھیتی کی زکوۃ کے بارے میں فتوٰی دیا کرتے تھے کہ جس کو نہر یا چشمہ کے پانی یا بارش کے پانی سے یا اونٹ کے ذریعہ سیراب کیا جائے اس پر زکوۃ عشر ہے یعنی ہر دس پر ایک اور جس کو تالاب کے ذریعہ سے سیراب کیا جائے (پانی اٹھا اٹھا کر لا کر سیراب کیا جائے) تو اس پر زکوۃ نصف عشر ہے یعنی ہر بیس پر ایک ہے۔