(۱۰۱۹۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : إنَّمَا یَکُونُ عَلَی الْعَیْنِ عَامَّۃَ الزَّمَانِ ، ثُمَّ یَحْتَاجُ إلَی الْبِئْرِ فِی الْقِطعَۃِ یُسْقَی بِہَا ، ثُمَّ الْقِطْعَۃِ ، ثُمَّ یَصِیرُ إلَی الْعَیْنِ ، کَیْفَ صَدَقَتُہُ ؟ قَالَ : الْعُشْرُ ، قَالَ : یَکُونُ ذَلِکَ عَلَی أَکْثَرِ ذَلِکَ أَنْ یُسْقَی بِہِ ، إِنْ کَانَ یُسْقَی بِالْعَیْنِ أَکْثَرَ مِمَّا یُسْقَی بِالدَّلْوِ ، فَفِیہِ الْعُشْرُ، وَإِنْ کَانَ یُسْقَی بِالدَّلْوِ ، أَکْثَرَ مِمَّا یُسْقَی بِالنَّجْلِ ، فَفِیہِ نِصْفُ الْعُشْرِ ، قُلْتُ : ہُوَ بِمَنْزِلَۃِ ذَلِکَ أَیْضًا الْمَالُ یَکُونُ بَعْلاً ، أَوْ عَثَرِیًّا عَامَّۃَ الزَّمَانِ ، ثُمَّ یَحْتَاجُ إلَی الْبِئْرِ ؟ قَالَ : نَعَمْ . قَالَ أَبُو الزُّبَیْرِ : وَسَمِعْت ابْنَ عُمَیرَ یَقُولُ ہَذَا الْقَوْلَ ، ثُمَّ سَأَلْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ ؟ فَقَالَ : مِثْلَ قَوْلِ عُبَیدِِ.
(١٠١٩٠) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ : کسی زمین کو کچھ عرصہ تک جاری (چشمہ وغیرہ) پانی سے سیراب کیا جائے پھر اس کے کسی حصہ کو کنویں کے پانی سے سیراب کرنے کی ضرورت پیش آجائے پھر کسی دوسرے حصے کو چشمہ کے پانی سے سیراب کیا جائے تو اس کی زکوۃ کس طرح نکالی جائے گی ؟ آپ نے جواب میں ارشاد فرمایا کہ عشر ہے۔ فرمایا کہ جس طریقہ سے زیادہ عرصہ سیراب کیا گیا ہے حکم اسی کے تابع ہوگا کہ اگر ڈول کی بجائے چشمہ کے پانی سے زیادہ عرصہ سیراب کیا گیا ہو تو اس پر عشر ہے۔ اور اگر چشمہ کی بجائے ڈول سے زیادہ عرصہ سیراب کیا گیا ہو تو اس پر نصف عشر ہے۔ میں نے عرض کیا کہ جس مال کو (زمین) کو کچھ عرصہ اونٹ اور آسمان کی بارش سے سیراب کیا جائے پھر کنویں سے سیراب کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو اس کا بھی یہی حکم ہے ؟ آپ نے ارشاد فرمایا کہ : جی ہاں۔ ابو زبیر راوی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمیر کو بھی اسی طرح فرماتے ہوئے سنا، پھر میں نے سالم ابن عبداللہ سے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے عبید کی طرح جواب دیا۔