(۱۰۲۸۹) حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ مُعَاذٍ ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ أَبِی صَغِیرَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنِی رِیَاحُ بْنُ عَبِیْدَۃَ ، عَنْ قَزَعَۃَ ، قَالَ : قُلْتُ لِاِبْنِ عُمَرَ : إنَّ لِی مَالاً ، فَإِلَی مَنْ أَدْفَعُ زَکَاتَہُ ؟ قَالَ : ادْفَعْہَا إلَی ہَؤُلاَئِ الْقَوْمِ ، یَعْنِی الأُمَرَائَ ، قُلْتُ : إذًا یَتَّخِذُونَ بِہَا ثِیَابًا وَطِیبًا ، قَالَ : وَإِنِ اتَّخَذُوا ثِیَابًا وَطِیبًا ، وَلَکِنْ فِی مَالِکَ حَقٌّ سِوَی الزَّکَاۃِ ، یَا قَزَعَۃَ۔
(١٠٢٨٩) حضرت قزعہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عمر سے عرض کیا : میرے پاس مال ہے میں زکوۃ کس کو ادا کروں ؟ آپ نے فرمایا اس قوم کو یعنی امراء کو (بادشاہوں کو) میں نے عرض کیا پھر تو وہ اس کے کپڑے اور خوشبو بنالیں گے (اور خود استعمال کریں گے) آپ نے فرمایا اگرچہ وہ کپڑے اور خوشبو بنالیں، اے قزعہ تیرے مال پر زکوۃ کے علاوہ بھی حق ہے۔