(۱۰۲۹۴) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ ہِشَامٍ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : کَانَتِ الصَّدَقَۃُ تُدْفَعُ إلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَمَنْ أَمَرَ بِہِ ، وَإِلَی أَبِی بَکْرٍ وَمَنْ أَمَرَ بِہِ ، وَإِلَی عُمَرَ وَمَنْ أَمَرَ بِہِ ، وَإِلَی عُثْمَانَ وَمَنْ أَمَرَ بِہِ ، فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ اخْتَلَفُوا ، فَمِنْہُمْ مَنْ رَأَی أَنْ یَدْفَعَہَا إلَیْہِمْ ، وَمِنْہُمْ مِنْ رَأَی أَنْ یَقْسِمَہَا ہُوَ ۔ قَالَ مُحَمَّدٌ : فَلْیَتَّقِ اللَّہَ مَنِ اخْتَارَ أَنْ یَقْسِمَہَا ہُوَ ، وَلاَ یَکُونَ یَعِیبُ عَلَیْہِمْ شَیْئًا ، یَأْتِی مِثْلُ الَّذِی یَعِیبُ عَلَیْہِمْ۔
(١٠٢٩٤) حضرت محمد فرماتے ہیں کہ زکوۃ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دی جاتی تھی اور جس کو آپ نے وصول کرنے کا حکم دیا تھا اس کو پھر حضرت ابوبکر کو اور جن کو انھوں نے حکم دیا ہوا تھا ان کو، پھر حضرت عمر کو اور جن کو انھوں نے حکم فرمایا ہوا تھا ان کو، پھر حضرت عثمان کو اور جن کو آپ نے حکم فرمایا تھا ان کو، جب حضرت عثمان شہید ہوگئے تو لوگوں کا آپس میں اختلاف ہوگیا۔ بعض کی رائے یہ تھی کہ اب بھی ان کو دی جائے (امراء کو) اور بعض حضرات کی رائے تھی کہ خود تقسیم کی جائے۔ حضرت محمد نے فرمایا : جو لوگ زکوۃ خود تقسیم کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈریں اور نہ عیب لگائیں ان پر کسی چیز کا مثل اس کے جو وہ عیب وہ ان پر لگاتے ہیں۔