(۱۰۳۲۵) حَدَّثَنَا مُعْتَمِر ، عَنْ بُرْدٍ ، عَنْ مَکْحُولٍ ، قَالَ : إذَا کَانَ لِلرَّجُلِ شَہْرٌ یُزَکِّی فِیہِ فَأَصَابَ مَالاً فَأَنْفَقَہُ ، فَلَیْسَ عَلَیْہِ زَکَاۃُ مَا أَنْفَقَ ، وَلَکِنْ مَا وَافَی الشَّہْرَ الَّذِی یُزَکِّی فِیہِ مَالَہُ زَکَّاہُ ، فَإِنْ کَانَ لَیْسَ لَہُ شَہْرٌ یُزَکِّی فِیہِ فَاسْتَفَادَ مَالاً ، فَلْیُزَکِّہِ حِینَ یَسْتَفِیدُہُ۔
(١٠٣٢٥) حضرت مکحول فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص کسی مہینے میں زکوۃ ادا کرے پھر اسی مہینے اس کو کچھ اور مال ملے اور وہ اس کو خرچ کر دے تو جو مال اس نے خرچ کیا ہے اس پر زکوۃ نہیں ہے۔ لیکن جس مہینے اس نے زکوۃ ادا کی اور اس کو کچھ مال ملا جو پورا مہینہ اس کے پاس رہا تو اس پر زکوۃ ادا کرنی پڑے گی۔ اور اگر جس مہینے اس نے زکوۃ ادا نہیں کی اس مہینے اس کو کچھ مال ملا تو جس وقت اس کو فائدہ ہوا اسی وقت اس پر زکوۃ ادا کرنا پڑے گی۔ (اس پر سال گذرنا شرط نہیں ہے) ۔