(۱۰۴۲) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنْ جَعْفَرٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، قَالَ : کَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِی سَفَرٍ مَعَ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِمْ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ ، فَکَانُوا یُقَدِّمُونَہُ یُصَلِّی بِہِمْ لِقَرَابَتِہِ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَصَلَّی بِہِمْ ذَاتَ یَوْمٍ ، ثُمَّ الْتَفَتَ إلَیْہِمْ فَضَحِکَ فَأَخْبَرَہُمْ أَنَّہُ أَصَابَ مِنْ جَارِیَۃٍ لَہُ رُومِیَّۃٍ ، وَصَلَّی بِہِمْ وَہُوَ جُنُبٌ مُتَیَمِّمٌ۔
(١٠٤٢) حضررت سعید بن جبیر فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عباس صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ ایک سفر میں تھے حضرت عمار بن یاسر بھی آپ کے ساتھ تھے۔ لوگ نماز کے لیے حضرت ابن عباس کو قرابت رسول اللہ کی وجہ سے آگے کرتے تھے۔ ایک دن حضرت ابن عباس نے انھیں نماز پڑھائی، پھر ان کی طرف متوجہ ہوئے اور مسکرا کر فرمایا : ” میں نے ایک رومی باندی سے صحبت کی پھر تمہیں حالت جنابت میں تیمم کرکے نماز پڑھائی ہے۔