(۱۰۴۵۵) حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ غِیَاثٍ ، عَنِ الضَّحَّاکِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : فَرَضَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ ، صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیرٍ ۔ قَالَ : وَکَانَ ابْنُ عُمَرَ یُعْطِیہِ عَمَّنْ یَعُولُ مِنْ نِسَائِہِ ، وَمَمَالِیکِ نِسَائِہِ ، إِلاَّ عَبْدَیْنِ کَانَا مُکَاتَبَیْنِ ، فَإِنَّہُ لَمْ یَکُنْ یُعْطِی عَنْہُمَا۔ (بخاری ۱۵۰۳۔ مسلم ۱۲)
(١٠٤٥٥) حضرت نافع سے مروی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر فرماتے ہیں کہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے صدقۃ الفطر ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو مقرر فرمایا۔ حضرت نافع فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر اپنے خاندان کی ان عورتوں کی طرف سے صدقۃ الفطر ادا کرتے تھے جو آپ کی کفالت میں تھیں اور ان کے غلاموں کی طرف سے سوائے دو مکاتب غلاموں کے، کہ ان کی طرف سے ادا نہ فرماتے تھے۔