(۱۰۴۸۶) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی أُمَیَّۃُ بْنُ أَبِی عُثْمَانَ ، عَنْ أُمَیَّۃَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ؛ أَنَّ نَافِعَ بْنَ عَلْقَمَۃَ کَتَبَ إلَی عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ مَرْوَانَ یَسْأَلُہُ عَنِ الْعَبْدِ فِی الْحَائِطِ وَالْمَاشِیَۃِ ، عَلَیْہِ زَکَاۃُ یَوْمِ الْفِطْرِ ؟ قَالَ : لاَ ، مِنْ أَجْلِ أَنَّ الْحَائِطَ وَالْمَاشِیَۃَ الَّذِی ہُوَ فِیہَا إنَّمَا صَدَّقْتَ بِہِ ، فَلَیْسَ عَلَیْہِ زَکَاۃٌ۔
(١٠٤٨٦) حضرت امیہ بن عبداللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نافع بن علقمہ نے عبد الملک بن مروان کو لکھا کہ کیا جو غلام باغ میں (کام کرتا ہو) اور جو غلام مویشوں کے ساتھ ہو اس پر بھی صدقۃ الفطر ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ نہیں۔ کیونکہ وہ غلام جو باغ میں ہو یا مویشوں کے ساتھ ہو تو نے ان کی زکوۃ تو ادا کر ہی دی ہے اس لیے اس پر صدقۃ الفطر نہیں ہے۔