(۱۰۵۵۷) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ ، أَنْ أَبَا عَمْرِو بْنَ حِمَاسٍ أَخْبَرَہُ ، أَنَّ أَبَاہُ حِمَاسًا کَانَ یَبِیعُ الأَدَمَ وَالْجِعَابَ ، وَأَنَّ عُمَرَ قَالَ لَہُ : یَا حِمَاسُ ، أَدِّ زَکَاۃَ مَالَک ، فَقَالَ : وَاللَّہِ مَا لِی مَالٌ ، إنَّمَا أَبِیعُ الأَدَمَ وَالْجِعَابَ ، فَقَالَ : قَوِّمْہُ وَأَدِّ زَکَاتَہُ۔
(١٠٥٥٧) حضرت ابو عمرو بن حماس فرماتے ہیں کہ میرے والد حضرت حماس سالن اور تیروں کے تھیلوں کی بیع کرتے تھے۔ ایک مرتبہ حضرت عمر نے ان سے فرمایا : اے حماس اپنے مال کی زکوۃ ادا کرو۔ انھوں نے عرض کیا خدا کی قسم میرے پاس تو کوئی مال نہیں ہے۔ میں تو سالن اور تیروں کا ترکش بیچتا ہوں۔ آپ نے فرمایا ان کی قیمت لگاؤ اور اس پر زکوۃ ادا کرو۔