(۱۰۵۶۷) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِی ، وَکَانَ عَلَی بَیْتِ الْمَالِ فِی زَمَنِ عُمَرَ مَعَ عَبْدِ اللہِ بْنِ الأَرْقَمِ ، فَکَانَ إِذَا خَرَجَ الْعَطَائُ جَمَعَ عُمَرُ أَمْوَالَ التِّجَارَۃِ ، فَحَسَبَ عَاجِلَہَا وَآجِلَہَا ، ثُمَّ یَأْخُذُ الزَّکَاۃَ مِنَ الشَّاہِدِ وَالْغَائِبِ۔
(١٠٥٦٧) حضرت حمید بن عبد الرحمن سے مروی ہے کہ حضرت عبد الرحمن بن عبد القاری حضرت عبداللہ بن ارقم کے ساتھ حضرت عمر فاروق کے زمانے میں بیت المال پر (نگران) مقرر تھے۔ جب بیت المال سے وظائف نکالے جاتے تو حضرت عمر تاجروں کے مال کو جمع فرماتے پھر نقد اور ادھار کا حساب لگاتے اور پھر ہر حاضر و غائب سے زکوۃ وصول فرماتے۔