(۱۰۶۷۰) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : حَرْثٌ لِرَجُلٍ دَیْنُہُ أَکْثَرُ مِنْ مَالِہِ فَحُصِدَ ، أَیُؤَدِّی حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ ؟ فَقَالَ : مَا نَرَی عَلَی الرَّجُلِ دَیْنُہُ أَکْثَرُ مِنْ مَالِہِ مِنْ صَدَقَۃٍ فِی مَاشِیَۃٍ ، وَلاَ فِی أَصْلٍ ، إِلاَّ أَنْ یُؤَدِّیَ حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ ، یَوْمَ یَحْصُدُہُ۔
(١٠٦٧٠) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطاء سے پوچھا کہ آدمی کی کھیتی ہے لیکن اس کے مال سے زیادہ اس پر قرض ہے۔ پھر اس کی کھیتی کاٹی گئی کیا جس دن کھیتی کاٹی گئی اس کا حق ادا کرے گا ؟ آپ نے فرمایا : جس پر اس کے مال سے زیادہ قرض ہو ہم نہیں سمجھتے کہ اس کے مویشوں پر اور مستقل سرمایہ پر زکوۃ ہے۔ مگر جس دن اس کی کھیتی کاٹی گئی ہے اس دن جو اس پر حق ہے وہ ادا کرے گا۔