(۱۰۶۸۴) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ ، عَنِ السَّفَّاحِ بْنِ مَطَرٍ ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ کُرْدُوسٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؛ أَنَّہُ صَالَحَ نَصَارَی بَنِی تَغْلِبَ عَلَی أَنْ تُضَعَّفَ عَلَیْہِمُ الزَّکَاۃُ مَرَّتَیْنِ ، وَعَلَی أَنْ لاَ یُنَصِّرُوا صَغِیرًا ، وَعَلَی أَنْ لاَ یُکْرَہُوا عَلَی دِینِ غَیْرِہِمْ ۔ قَالَ دَاوُد : لَیْسَتْ لَہُمْ ذِمَّۃٌ ، قَدْ نَصَّرُوا۔
(١٠٦٨٤) حضرت داؤد بن کردوس سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق نے بنو تغلب کے نصاریٰ کے ساتھ (اس شرط پہ) صلح فرمائی تھی کہ ان سے زکوۃ کا دو گنا وصول کیا جائے گا۔ اور ان کے چھوٹوں کو نصاریٰ نہیں بنایا جائے گا، اور نہ ہی ان کو کسی غیر دین پر مجبور کیا جائے گا۔ داؤد راوی فرماتے ہیں کہ ان کے لیے کوئی ذمہ نہیں ہے، تحقیق وہ نصرانی ہوگئے۔