(۱۰۶۸۶) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنْ سَعِیدٍ ، عَنْ قَتَادَۃَ ، عَنْ أَبِی مِجْلَزٍ ؛ أَنَّ عُمَرَ بَعَثَ عُثْمَانَ بْنَ حُنَیْفٍ ، فَجَعَلَ عَلَی أَہْلِ الذِّمَّۃِ فِی أَمْوَالِہِمَ الَّتِی یَخْتَلِفُونَ بِہَا فِی کُلِّ عِشْرِینَ دِرْہَمًا دِرْہَمًا ، وَکَتَبَ بِذَلِکَ إلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَرَضِیَ وَأَجَازَہُ ، وَقَالَ لِعُمَرَ : کَمْ تَأْمُرُنَا أَنْ نَأْخُذَ مِنْ تُجَّارِ أَہْلِ الْحَرْبِ ؟ قَالَ : کَمْ یَأْخُذُونَ مِنْکُمْ إذَا أَتَیْتُمْ بِلاَدَہُمْ ؟ قَالُوا : الْعُشْرَ ، قَالَ : فَکَذَلِکَ فَخُذُوا مِنْہُمْ۔
(١٠٦٨٦) حضرت ابو مجلز سے مروی ہے کہ حضرت عمر فاروق نے حضرت عثمان بن حنیف کو (عشر وغیرہ وصول کرنے کیلئے) بھیجا، انھوں نے ذمیوں کے اموال پر جو دوسرے شہروں میں منتقل ہوگئے تھے اور تجارت کرتے تھے ہر بیس درہم پر ایک درہم مقرر کردیا، اور حضرت عمر فاروق کو یہ لکھ کر بھیج دیا۔ آپ اس پر راضی ہوگئے اور اس کی اجازت دے دی۔ پھر حضرت عمر فاروق سے عرض کیا کہ : آپ ہمیں کیا حکم فرماتے ہیں کہ ہم اہل حرب کے تاجروں سے کتنا وصول کریں ؟ آپ نے فرمایا جب تم ان کے شہروں میں جاتے ہو تو تم سے کتنا وصول کرتے ہیں۔ لوگوں نے کہا عشر، تو آپ نے فرمایا اتنا ہی تم ان سے وصول کرو۔