(۱۰۶۸۹) حَدَّثَنَا یَعْلَی ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ رُزَیْقٍ مَوْلَی بَنِی فَزَارَۃَ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ کَتَبَ إلَیْہِ : خُذْ مِمَّنْ مَرَّ بِکَ مِنْ تُجَّارِ أَہْلِ الذِّمَّۃِ فِیمَا یُظْہِرُونَ مِنْ أَمْوَالِہِمْ وَیُدِیرُونَ مِنَ التِّجَارَاتِ ، مِنْ کُلِّ عِشْرِینَ دِینَارًا دِینَارًا ، فَمَا نَقَصَ مِنْہَا فَبِحِسَابِ مَا نَقَصَ ، حَتَّی تَبْلُغَ عَشَرَۃً ، فَإِذَا نَقَصَتْ ثَلاَثَۃَ دَنَانِیرَ فَدَعْہَا لاَ تَأْخُذْ مِنْہَا شَیْئًا ، وَاکْتُبْ لَہُمْ بَرَائَۃً إلَی مِثْلِہَا مِنَ الْحَوْلِ بِمَا تَأْخُذُ مِنْہُمْ۔
(١٠٦٨٩) حضرت رزیق فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبد العزیز نے میری طرف لکھ کر بھیجا کہ : ذمی تاجر جو تیرے پاس سے گذریں اور جو مال ان کا ظاہر کیا جاتا ہے اور تجارت میں گھومتا ہے تو ہر بیس دینار پر ایک دینار وصول کرنا، اور جو اس سے کم ہو تو اس سے اسی کمی کے حساب سے وصول کرنا، یہاں تک کہ دس تک پہنچ جائے، پھر جب اس سے بھی تین دینار کم ہوجائیں تو پھر چھوڑ دے کچھ بھی وصول نہ کرو اور ان کیلئے ان سے برأت لکھ دو جو (آگے) وصول کرنے والے ہیں۔