(۱۰۷۵۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أَسْلَمَ ؛ أَنَّ عُمَرَ بَعَثَہُ بِإِبِلٍ مِنَ الصَّدَقَۃِ إلَی الْحِمَی ، فَلَمَّا أَرَدْتُ أَنْ أَصْدُرَ ، قَالَ : اعْرِضْہَا عَلَیَّ ، فَعَرَضْتہَا عَلَیْہِ وَقَدْ جَعَلْتُ جَہَازِی عَلَی نَاقَۃٍ مِنْہَا ، فَقَالَ : لاَ أُمَّ لَکَ ، عَمَدْت إلَی نَاقَۃٍ تُحْیِی أَہْلَ بَیْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ تَحْمِلُ عَلَیْہَا جَہَازَک ؟ أَفَلاَ ابْنَ لَبُونٍ بَوَّالاً ، أَوْ نَاقَۃً شَصُوصًا۔
(١٠٧٥٢) حضرت سالم سے مروی ہے کہ حضرت عمر نے حضرت اسلم کو زکوۃ کے اونٹ دے کر حمی مقام کی طرف بھیجا۔ فرماتے ہیں کہ جب میں واپس لوٹنے لگا تو فرمایا ان کو میرے سامنے پیش کر، میں نے اس حال میں پیش کیا کہ ان میں سے ایک اونٹنی پر میرا سامان تھا۔ آپ نے (غصہ میں) فرمایا تیری ماں نہ رہے۔ میں نے ارادہ کیا تھا کہ اونٹنی کے ذریعہ مسلمانوں کے اہل بیت کو زندہ کیا جائے تو نے اس پر اپنا سامان لاد دیا کیا بہت زیادہ پیشاب کرنے والا ابن لبون یا کم دودھ دینے والی اونٹنی نہ تھی (اس کام کیلئے) ۔